سندھی: وادی سندھ کی قدیم زبان - عزیز کنگرانی

سندھی: وادی سندھ کی قدیم زبان

سندھی: وادی سندھ کی قدیم زبان

 30/04/2024 عزیز کنگرانی

سندھی زبان کی دستاویزی قدامت نظر ڈالتے ہیں تو قدیم تحریروں میں سندھی زبان کی موجودگی نظر آتی ہے۔ تاریخی طور پر پروٹو دروڑی زبانوں، دراوڑی زبانوں، ویدک ثقافت یا دور اور سنسکرت کی پنینی کی لکھی گرامر دستاویزی حیثیت رکھتے ہیں۔ سندھی زبان کی جڑیں ویدک دور یا وادیٔ سندھ کی تہذیب کے دور کی دراوڑی زبانوں سے پہلے پروٹو دراوڑی زبانوں تک جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ انڈس اسکرپٹ کے ساتھ بھی جڑی ہوں۔

تاریخی اور آثار قدیمہ کے ریکارڈ کے ساتھ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ سندھی زبان دراوڑ سے پہلے دور (Proto Dravidian) سے مالا مال رہی ہے۔ اس مقالے کا مقصد یہ بھی ہے کہ سنسکرت زبان کے ساتھ سندھی زبان کے متوازی ارتقاء پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ لامحالہ ایلیٹ کلاس کی زبان ہونے کی وجہ سے سنسکرت زبان کو ترجیح دربار میں دی گئی۔ نتیجتاً ہر قسم کا زبانی ادب (مقدس) سنسکرت زبان میں بیان کیا گیا۔ دریں اثنا، سندھی صدیوں کے دوران عام لوگوں کی زبان رہی جس کے نتیجے میں سندھی زبان کی دستاویزی طور پر ثبوت اور روابط کے رکارڈ  کم ملتے ہیں۔

وادی سندھ کی تہذیب کی پروٹو۔ دراوڑی زبانوں، دراوڑی زبانوں اور انڈس اسکرپٹ کے ساتھ اس کا بتدریج رابطہ منقطع ہو گیا۔ آریوں کے تشدد اور سیاسی تسلط نے ویدک سندھی زبان، دراوڑی زبانوں اور پروٹو۔ دراوڑی سندھی زبان کے درمیان روابط کو مسمار اور جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ حالانکہ پروٹو دراوڑ اور دراوڑی زبانوں کے بہت سے الفاظ ابھی تک سندھی زبان میں رائج ہیں۔ غالباً، سندھی ایک دراوڑی زبان ہے لیکن بعد میں آریائی زبانوں، فارسی اور عربی زبانوں کے غلبے اور اثر کے بعد ، سندھی کو ہند آریائی زبانوں کے گروپ میں شامل کیا گیا۔

سندھ کی سرزمین قدیم ہے جسے دریائے سندھ نے بنایا ہے۔ اس سرزمین کا نام سندھ کیسے اور کس دور میں پڑا؟ اس سلسلے میں بہت سے مفروضے ہیں لیکن جگت موٹوانی اپنی کتاب، ”انڈیا از کریڈل آف آرینس“ کے صفہ 57 پر لکھتے ہیں کہ سندھی پروٹو دراوڑی زبان ہے۔ نظیر شاکر براہوی نے سندھی ادبی بورڈ جامشورو کے مہران رسالے میں شایع مضمون میں لکھا ہے کہ، سندھ لفظ پروٹو دراوڑی ہے۔ قدیم دستاویزی شواہد، تاریخی اور آثار قدیمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ سندھی زبان پروٹو دراوڑ دور میں رائج تھی۔

سید مصطفی علی بریلوی کتاب ”مسلمان سندھ کی تعلیم“ کے صفہ۔ 57 پر لکھتے ہیں کہ ”سندھی زبان سنسکرت سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ یہ سنسکرت سے پہلے کی وادی سندھ کی تہذیب کی قدیم زبانوں میں سے ایک ہے۔“ سندھی کی ابتدا کے بارے میں چار نظریات ہیں، جن میں سے تین نے ہند آریائی نظام میں اس کی جڑیں تلاش کیں۔ تاہم، باقی ایک نے اصرار کیا ہے کہ آج کی جدید سندھی پروٹو۔ دراوڑ سے ماخوذ ہے۔ موجودہ سندھی زبان میں دراوڑی اور پروٹو دراوڑی الفاظ کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ سندھی زبان وادی سندھ کی تہذیب کے دور میں اور اس سے پہلے تیسری دہائی ( 3300 ق۔م) قبل مسیح تک پروٹو دراوڑی دور میں بولی جاتی تھی۔ یہ ویدک ثقافت کی سنسکرت سے بھی قدیم ہے۔ آسکو پارپولا کتاب ؛روٹس آف ہندوازم ”، بھنڈری راجو کرشنامورتی کی انگریزی کتاب“ ڈریویڈن لینگئیجز ”اور اسٹیور فورڈ کی بھی اسی عنوان سے کتاب“ ڈریویڈن لینگئیجز ”میں موجود سندھی زبان کے پروٹو دراوڑ اور دراوڑی الفاظ کا ذکر معانی کے ساتھ کیا گیا ہے جو آج بھی سندھی زبان میں مروج ہیں۔ پروٹو ڈراوڑی اور دراوڑی الفاظ کی چند مثالیں ذیل میں دی گئی ہیں۔

و 1 ) ’Kã wati‘ ۔ سندھی زبان میں یہ اب بھی ’کنواٹی‘ (Kanwaati) (کرشنامورتی: 2003 :ص۔ 9 ) کے نام سے رائج ہے۔ (لکڑی کی ایک ڈنڈی کندھوں پر جس کے دونوں سروں پر وزن رسی سے جڑا ہوا ہوتا ہے ) ۔ انڈس اسکرپٹ میں دکھائے گئے لوڈ بیئرر کو بطور کنواٹی کے ساتھ آدمی سمجھا جا سکتا ہے جو سندھی زبان کا انڈس اسکرپٹ سے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔

2) کاتی۔ Katti جدید سندھی زبان میں یہ ’کاتی‘ (چاقو، کاتی، چھری) کے نام سے مروج ہے، (کرشنامورتی: 2003 : ص۔ 9 )

3) (Bhanda) ’بھانڈا‘ (سامان رکٔھنے کی جگہ، گودام) ، یہ سندھی زبان میں ’بھانڈو‘ واحد اور ’بھانڈا‘ ) کرشنا مورتی، ص۔ 9 ) جمع کے طور پر مروج ہے۔

4) (Patti) ’پاٹی‘ اناج کی پیمائش کا آلہ۔ یہ سندھی زبان میں ’پاٹی‘ مروج ہے۔ انگریز دور میں پاٹی سے اناج کی پیمائش کی جاتی تھی (کرشنامورتی: 2003 : ص۔ 9 ) ۔

5) ’Wir  i، ‘ Viri۔ i (ویری) دراڑ، جگہ، کچھ کھلا (دیوار یا رشتوں میں دراڑ) ، اصطلاحی معنے تصادم بھی ہے جو سندھی میں اب تک رائج ہے۔ اور اس کا مترادف سندھی میں ’وتھی‘ (Withi) ہے۔ (کرشنامورتی: 2003 : 190 ) ۔

6) (Kana) ”کانا“ سندھی میں کانو (One eyed) (پروٹو دراوڑی) ایک آنکھ سے دیکھنے والا شخص (پارپولا: 2015 : ص۔ 283 )

7، (Kure Kure) (کور کور) (کتے کو بلانا) یہ اب بھی سندھی زبان میں ہے (پارپولا: 2015 : 283 ) ۔
8) (Amma) ، (Mother) ، سندھی: اماں (Steever: 1996 : 48 )
9) (Ase) ، (Desire) ، سندھی: آس، خواہش، امید (Steever: 1998 : 154 )

10 ) (Pau) ’پاپ‘ گناہ، ایک گنہگار وجود (سانپ) ، ایک گناہ، (کرشنامورتی: ص۔ 2 ) سندھی: ’پاپ‘ (پاپ، جرم، مجرم)

11 ) ، (Vairu) ( (Enmity، دشمنی، بیر (ویری) (Enemy) دشمن، بیری (کریشمورتی: ص۔ 2 ) سندھی میں ’ویر‘ (ویری، دشمنی) ۔

12 ) (Kot۔ y) کوٹ۔ اے، (کوٹ، قلعہ) ، (کرشنامورتی: ص۔ 8 ) ، سندھی ’کوٹ‘ (کوٹ، قلعو) ۔

13 ) (Mama) ، (Mother ’s brother) (ماں کا بھائی، ماما یا ماموں (کرشنامورتی: صفحہ 10 ) ، سندھی (مامو) ۔

14 ) ، (Amma) (Mother) ، (کرشنامورتی: صفحہ 10 ) ، سندھی ’اماں‘ ۔

دوسری طرف، جب سے وادی سندھ کی تہذیب دریافت ہوئی ہے، علماء نے اس کے (IVC) لوگوں کی لسانی انفرادیت پر بحث کی ہے۔ بہت سے آثار قدیمہ، لسانی، آثار قدیمہ اور تاریخی اشارے کی روشنی میں علماء کے تجزیاتی مطالعہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کانسی کے زمانے کے میسوپوٹیمیا میں ہاتھی کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ جیسے، Piri، ’Piru‘ ، Pilu، پروٹو دراوڑی یا دراوڑی ہاتھی کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ہیں۔ آسومل اپنی کتاب ”اسیسٹرل ڈریویدین لینگئیجز“ کے صفحہ 8 پر لکھتے ہیں کہ 1400 قبل مسیح کے امرینا خط میں اور ہاتھی کے دانت کے لیے لفظ ( ’pîruš‘ ) جو چھٹی صدی قبل مسیح کی کچھ پرانی فارسی دستاویزات میں درج ہے، یہ سب اصل میں ’Pilu‘ سے لیے گئے تھے، جو ایک پروٹو۔ دراوڑی لفظ ہے، جو وادی سندھ کی تہذیب میں مروج تھا۔ آسومل پروٹو ڈراوڑی ہاتھی کے دانت کے لیے لفظ ’Pal‘ اور اس کی متبادل شکلوں (Pil، Pilu، Pel ’) سے متعلق ہے۔ سندھی زبان میں یہ‘ پیل پاؤ ’ہے جو محاورہ ہے جس کا مطلب ہے ہاتھی کی طرح‘ طاقت ’یا طاقتور۔ عربی میں اسے ”فیل“ اور فارسی میں‘ پیل ’کہتے ہیں۔

جہاں تک ہند۔ یورپی زبانوں کا تعلق ہے، سندھی زبان کا لفظ ”اندھو“ (اندھا، نابین) اسی معنی کے ساتھ واٹکنز کی لکھی ”انڈو یورپی جڑوں کی امریکی ورثے کی لغت“ کے صفحہ۔ 4 پر شامل ہے۔ یہ لغت پھلی مرتبہ 1985 میں شائع ہوئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھی زبان نہ صرف ابتدائی دور اور وادی سندھ کی تہذیب کی اہم زبانوں میں سے ایک تھی بلکہ یہ سنسکرت کی طرح یورپ میں (بطور دراوڑ اور پروٹو دراوڑی زبان) وسیع پیمانے پر پھیلی تھی اور یورپی زبانوں کو الفاظ ادھار طور دیے۔

رگ وید میں دراوڑی زبان کے ادھار الفاظ بھی شامل ہیں۔ رگ وید میں مستعار الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ الفاظ دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں اور ان کو اہل علم نے ادھار الفاظ کہا ہے۔ اپیندر سنگھ نے اپنی کتاب ”ہسٹری آف اینشنت ارلی مڈویئل انڈیا“ کے صفحہ 187 پر رگ وید میں ادھار الفاظ دیے ہیں۔ رگ وید میں شامل ادھار الفاظ ہیں : (Pipur) سندھی پپر (پیپل کا درخت) ، راجا (بادشاہ) ، (Phalu) (سندھی پھل، میوو) ، (Kharu) (سندھی کھر، ویری، دشمن) ، (Kiri) (کری مطلب پرہیز) ، (Kirir) (کرڑ، درخت کی قسم) (Kal) یا (Kul) (سندھی سارا یا مکمل، مشین) ، (Kunaru) (سندھی کونر، بازو میں لنگڑا اور پانی کے لیے برتن بھی) ، (Kano) جمع (Kana) ، (سندھی: کانو، ایک آنکھ سے اندھا) ، (Kunda) یا (Koonda) ، (سندھی کونڈو یا کونڈا مالحہ یا مشروب پیسنے کے لیے ایک برتن) ، (Nalu) (سندھی نل یا نڑ) (پائپ) ، (Mayur) (سندھی مور) ، (Dando) ، (سندھی: ڈنڈو، چھڑی) ، (Bila) (سندھی: بل، بر، سانپ یا چوہے بل، سوراخ، غار) ، کٹ (Cutt u) (سندھی کٹ یا کاٹنا) ، (Bala) ) سندھی میں بر، جس کا مطلب ہے طاقت۔ ( ’mrg‘ (Mirg ’) (اب‘ mirgh ’، deer) (سندھی میں ہرن) اور‘ nag ’، (اب سندھی میں نانگ، کا مطلب ہے ) یہ الفاظ اب تک سندھی زبان میں رائج ہیں جو ہماری مدد کرتے ہیں۔ یقیناً دراوڑی زبان ہونے کی وجہ سے سندھی زبان کے یہ ادھار الفاظ رگ وید میں ہیں جو سنسکرت کے متوازی ویدک دور میں موجود تھی۔

مندرجہ بالا ادھار الفاظ سنسکرت یا رگ وید میں شامل ہیں، دراوڑی زبان ہونے کی وجہ سے، یقیناً سندھی زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر یہ غلط ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ الفاظ کون سی دوسری دراوڑی زبان سے لیے گئے تھے اور رگ وید میں استعمال ہوئے تھے؟ یقیناً یہ ادھار الفاظ دراوڑی زبان (سندھی) سے تعلق رکھتے ہیں اور کسی اور نہیں بلکہ سندھی زبان کے الفاظ ہیں۔ اور سندھی زبان کو دراوڑی زبان ماننے کی طرف اشارہ ہے۔ رگ وید میں سندھی زبان کے ادھار الفاظ بھی سندھی کی ویدک دور جڑوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

پانینی کے استادھیائی (گرائمر) میں (Lipikara) ، (Lipikar) ( ’لیپیکار‘ ، جو الفابیٹ جانتا ہو) یا لبیکار ( ’لپی‘ (الفابیٹ سے ماخوذ ہے ) (سندھی لپی یعنے الفاپیٹ) ۔ پانینی کی تاریخ متعین نہیں ہے لیکن کچھ اسکالرز اسے آٹھویں صدی قبل مسیح میں رکھنا چاہتے ہیں، عام طور پر کچھ اس کا دور چوتھی صدی قبل مسیح میں طے کرتے ہیں۔ لفظ (Likh) (سندھی، لکھ مطلب لکھنا) ، (Lekha) (سندھی۔ لیکھ مضمون) ، (Lekhak) یا (Lekhaka) ( سندھی لیکھک، لکھاری، مصنف) ( ’likhana‘ ) ( ’Likhanu‘ (، (سندھی، لکھن مطلب لکھنا) ۔

جنوبی ایشیا میں آخری مہاکاوی دور، خاص طور پر ہندوستان میں تقریباً 1000 قبل از مسیح سے 600 قبل از مسیح تک شمار کیا جاتا ہے۔ سندھ اور دریائے سندھ کا ذکر دونوں مہاکاوی ’رامائن‘ اور مہابھارت میں ملتا ہے۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں بدھ مت کے اصول بنائے گئے جن میں (Lekh) لفظ ہے۔ (سندھی لیکھ کا مطلب مضمون ہے ) اور (LeKhak) بھی ہے۔ ) سندھی لیکھک کا مطلب ہے مصنف) یہ الفاظ سندھی زبان میں عام ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ الفاظ سنسکرت میں ادھار الفاظ کے طور پر ہو سکتے ہیں لیکن یہ سندھی زبان کے ذخیرہ میں بھی ہیں۔ مندرجہ بالا الفاظ ہرجانی کی کتاب ”سندھی رووٹس اینڈ رچوئلس“ میں شامل ہیں۔

نتیجہ

ظاہر ہے کہ تین اہم دستاویزی شواہد بیان کیے گئے ہیں اور ان پر جامع بحث کی گئی ہے۔ ایک، سندھی زبان پروٹو دراوڑی دور میں، دوسری دراوڑ دور اور تیسری ویدک دور میں موجود تھی۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا بحث سے دستاویزی قدامت کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ سندھی کے الفاظ رگ وید اور پننی کی گرامر میں درج ہیں۔ مزید یہ کہ، دراوڑی لفظ ’کنواٹی‘ کو لوڈ بیئرر کے ساتھ جوڑنے کے لیے اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، جو سندھی زببان کی رسم الخط (انڈس اسکرٹ) کی علامت ہو سکتی ہے۔

غالباً، موہنجو دڑو تہذیب کے زمانے میں بوجھ اٹھانے والے (Load bearer) کو ’کنواٹی اٹھانے والا‘ کہا گیا ہو گا۔ جب کہ مہروں پر بوجھ اٹھانے والے کی علامت کی شکل میں تغیر ظاہر کرتا ہے کہ ممکنہ طور پر وادی سندھ کی تہذیب کے شہروں اور قصبوں میں مختلف بوجھ کے لیے مختلف قسم کے بوجھ اٹھانے والے (کنواٹی والے ) ہوں گے ۔ تاہم، گہرا تجزیاتی مطالعہ سندھی زبان کی مزید دستاویزی قدامت کا دروازہ کھول دے گا جس کی گنتی سندھی رسم الخط کو سمجھنے اور سندھی زبان سے منسلک کرنے کے لیے ہو گی۔

Copyright @2026 Sindhi Language Library. All Rights Reserved by Sindhi Language Authority

Powered by Abdul Majid Bhurgri Institute of Language Engineering